رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قرآن پاک کی اس سورۂ میں ہر بیماری سے شفا ہے

قرآن

حضرت ایفع بن عبدالکلاعی ؒ بیان کرتے ہیں ، کسی آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! قرآن میں سب سے عظیم سورت کون سی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ سورۃ الاخلاص ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : تو پھر قرآن میں سب سے عظیم آیت کون سی ہے ؟آپ ﷺ نے فرمایا :’’ آیۃ الکرسی ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! آپ کون سی آیت پسند فرماتے ہیں کہ وہ آپ کو اور آپ کی امت کو مل جائے ؟

آپ ﷺ نے فرمایا’’ سورۂ بقرہ کا آخری حصہ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے اس کی رحمت کے خزانوں میں سے ہے جو اس نے اس امت کو عطا فرمائی ہے ، اور وہ دنیا و آخرت کی تمام بھلائیوں پر مشتمل ہے ۔‘‘ المشکوتہ 2169حضرت عبدالملک بن عمیر مرسل روایت بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سورۂ فاتحہ میں ہر بیماری سے شفا ہے ۔‘‘ المشکوتہ 2170سورہ نصر کا ایک ایسا خاص عمل پیش کیا جارہا ہے جس کے کرنے سے انشاء اللہ آپ اللہ رب العزت سے جو دعا مانگیں گے اللہ رب العزت آپ کی ہر دعا کو قبول فرمائیں گے آپ کو کامیابیاں ہی کامیابیاں عطافرمائیں گے لیکن سورہ نصر کا یہ خاص عمل جاننے سے قبل آپ سے درخواست ہے کہ درود پاک پڑھ لیجئے

اور پاک صاف ہوجائیے۔ زندگی میں ہر قسم کی کامیابی حاصل کرنے کے لئے ہر قسم کی پریشانیوں سے نجات کے لئے ہر قسم کی مشکلات کے حل کے لئےسورۃ النصر کا وظیفہ بہت ہی مجرب ہے سورہ نصر کا وظیفہ کرنے والوں کو زندگی کی سب سے بڑی کامیابی کیسے مل جاتی ہے ؟ سورہ نصر کی پہلی آیت اذا جاء نصراللہ کے لفظ نصر کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہےاس سورت سورۃ النصر کو پڑھنے سے آپ کے لئے ہر میدان میں کامیابی کے دروازے کھلیں گے اور لکھا ہے کہ اس سورت کو ہر روز سات مرتبہ پڑھنے سے انشاء اللہ ہر بلا سے ہر مصیبت سے محفوظ رہے گا اور فتح اور مدد میسر ہوگی اور اگر کوئی اس سورت کو روزانہ پڑھے تو دشمن پر فتح یابی حاصل کرے گا

اور اگر کوئی اس سورت کو رنگ پر کنندہ کر کے جال میں لگا دے تو اس جال میں مچھلیاں بھی خوب آئیں گے سورۃ النصر کے مزید خواص اور فضائل احادیث میں وار د ہوئے ہیں ۔تقریبا ہر مسلمان کو یہ سورت زبانی یاد بھی ہوگی ۔ ترجمہ ہے جب خدا کی مدد اور کامیابی آن پہنچی اور آپ دیکھیں گے کہ لوگ گروہ در گروہ خدا کے دین میں داخل ہورہے ہیپس تم اپنے پروردگار کی تسبیح اور حمد و ثنا بیان کرو اور اس سے استغفار کرو کہ وہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا ہےحضرت ابن عباس ؓ کا بیان ہےکہ یہ قرآن مجید کی آخری سورت ہے یعنی اس کے بعد کوئی بھی مکمل سورت حضور پاک پر نازل نہیں ہوئی اور مسند احمد میں ہے کہ جب یہ سورت مبارکہ نازل ہوئی تو حضور نبی کریم نے فرمایا

کہ مجھے میری وفات کی خبر دے دی گئی ام المومنین حضرت ام حبیبہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب یہ سورت مبارکہ نازل ہوئی تو حضور اکرم نے فرمایا کہ اس سال میرا انتقال ہونے والا ہے یہ بات سن کر حضرت فاطمہ ؓ روددیں اور اس پر آپ نے فرمایا کہ اے فاطمہ میرے خاندان میں تم سب سے پہلے مجھ سے آکر ملو گی تو یہ بات سن کر حضرت فاطمہ ؓ مسکرا دیں ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ مجھے غزوہ بدر میں شریک ہونے والے بڑے بڑے شیوخ کے ساتھ اپنی مجلس میں بلاتے تھےیہ بات بعض لوگوں کو ناگوار گزری اور انہوں نے کہا کہ ہمارے لڑکے بھی تواسی لڑکے جیسے ہیں اس کو خاص طور پر کیوں ہمارے ساتھ شریک مجلس کیاجاتا ہے تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ علم کے

لحاظ سے اسکا جو مقام ہے وہ آپ لوگ جانتے ہیں ۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

اپنی رائے کا اظہار کریں