”جو شخص فجر کی نماز کے بعد یہ کام کرے گا“

نماز

فرشتے دن اور رات میں تمہارے پاس باری باری آتے ہیں۔وہ نمازِ فجر اور نمازِ عصر میں تم سے ملتےہیں۔تو وہ(فرشتے) جو رات میں تمہارے ساتھ تھے، واپس جاتے ہیں،جو ان(فرشتوں) سے زیادہ جاننے والا (اللہ)ہے ان سے پوچھتا ہے:’تم نے میرے بندے کو کیسا پایا‘؟وہ کہتے ہیں،’تیرا بندہ عبادت میں مشغول تھا جب ہم اس کے پاس سے آئے،اور جب ہم اس کے پاس پہنچے تو بھی وہ عبادت میں مشغول تھا‘۔‘‘(صحیح البخاری، الفتح،2/33)ایک صحیح حدیث کے مطاب

’’جس نے البردیان ادا کی وہ جنت میں جائے گا۔‘‘(صحیح البخاری، الفتح،2/52 ۔ نمازِ فجر اور نمازِ عصر البردیان ہیں)​(2)مسلمانوں کو نمازِ فجر ادا نہ کرنے کے معاملے کو سنجیدگی سے سمجھنا چاہیے۔جیسا کہ حدیث میں بیان کیا جاچکا ہے:’’نمازِ عشاء اور نمازِ فجر منافقین کے لیے بہت شاق(بھاری ) ہیں۔‘‘صحیح البخاری میں یہ روایت کیا گیا ہے کہ عمرؓ ابنِ الخطاب فرماتے ہیں کہ :’ ’فجر اور عشاء کی نمازوں میں اگر ہم کسی کو نہ پاتے تو، اس کے بارےمیں برا خیال کرتے۔‘‘(الطبرانی، المعجم الکبیر،12/271۔ الحیثمی کہتے ہیں، الطبرانی ثقہ(معتبر) ہیں۔ المجمہ،2/40۔)وہ اس شخص کے بارے میں برا خیا کرتےجو ان دو نمازوں میں غیر حاضر ہوتا کیونکہ روزانہ کی بجاآوری کسی بھی شخص کے ایمان کی پیمائش اور اس کے اخلاص کی ایک علامت ہے۔دیگر نمازیں ادا کرنا قدرے آسان ہوتی ہیںکیونکہ وہ کسی شخص کے ماحول ،کام اور اس کی نیند میں حائل نہیں ہوتیں۔ جن لوگوں پر حقیقت عیاں ہے

وہ مخلص بھی ہیں اور وہ لوگ جن سے نیکی کی امید کی جاتی ہے، ایسے لوگوں پر فجر اور عشاء کا بوجھل ہونا تو درکنار وہ انکو باجماعت ادا کرنے میں انتہائی خوشی اور اطمینان محسوس کرتے ہیں۔ایک دوسری حدیث میں نمازِ فجر کے ترک پروعید آئی ہے :’’وہ شخص اللہ کی حفاظت میں ہے جو نمازِ فجر ادا کرتاہے، لہٰذا اپنےآپ کو اس حال میں نہ ڈالو جہاں اللہ تم سے تمہاری لا پروائی کا جواب طلب کرے۔ کیونکہ جوکوئی بھی اس حال میں مبتلا پایا جائیگا اسکو(لوگوں سے) الگ کرکے منہ کے بل جہنم میں جھونک دیا جائیگا۔ ‘‘(مسلم ،ص۔454)۔یہ دو نکات مسلمانوں کے لیے کافی ہیں۔ ان سے ان کا دل بے چین ہوگا اس فکر میں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ نمازِ فجر قضا نہ ہو۔حدیث کا پہلا حصہ اس بات کی رغبت دیتاہے کہ نمازِ فجر کے اجروثواب کے حصول کی بھرپور کوشش کی جائےاور دوسرا حصہ خبردار کرتا ہے کہ غفلت جیسے گناہ سے باز رہا جائے۔وہ عملی تجاویزجن کے ذریعےاس مسئلے سے نبٹا جاسکتا ہے

اور وہ اقدامات جو مسلمانوں کو نمازِ فجر باجماعت ادا کرنے کا عادی بنادیں درج ذیل ہیں:جلدی سونا :صحیح حدیث کے مطابق حضور اکرمﷺعشاء سے پہلے سو نا اور عشاء کے بعد گفتگو کرنا ناپسند فرماتے تھے۔مسلمانوں کو عشاء سے پہلے نہیں سونا چاہیے کیونکہ یہ واضح ہے کہ وہ لوگ جو عشاء سے پہلے سوتے ہیں وہ پوری رات بوجھل اور تھکاوٹ محسوس کرتے ہوئے گزاریں گے جیسا کہ وہ بیمار ہو۔یہ ایک حقیقت ہے کہ افراد نیند کے حوالے سے مختلف ہوتے ہیں، اسی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہے کہ مخصوص گھنٹوں کے بارے میں کہا جائے کہ انہیں میں سونا چاہیے، لیکن ہر شخص کو چاہیے کہ وہ اپنےوقت کا خاص خیال رکھے اس سے وہ اپنی نیند پوری کرے گا تاکہ نمازِ فجر میں تازہ دم اٹھ سکے۔وہ اطمینان کرلے کہ اسکا وجود پاکہے اور رات کو سونے سے پہلے دعائیں پڑھے ۔ یہ افعال نمازِ فجر میں اٹھنے کے لیے مددگارثابت ہونگے۔ وہ شخص نمازِ فجر میں بیدار ہوگا جو سونے جائے توسچی نیت رکھتا ہو اور عمل کے لیے پُرعزم ہو۔لیکن کوئی شخص اس اُمید کے ساتھ سوتا ہےکہ اگر آلارم بجے گا تو اسے بند بھی کیا جاسکتا ہے یا وہ خود ہی بند ہوجائیگا یا یہ نیت کرتا ہے کہ

کوئی جگانے آئیگا اور دل چاہے گا تو بیدار ہونگا ورنہ بعد میں قضا تو کر ہی لوں گا،توایسی کمزور نیت کے ساتھ کیاوہ نمازِ فجر میں اُٹھ سکتا ہے؟ جبکہ اسکی نیت میں فتور ہو۔}ایسا نہیں ہوسکتا یعنی وہ بُری نیت رکھے گا تو انجام بھی برا ہوگا۔{جیسے ہی بیدار ہوں اللہ کو یاد کریں۔ کچھ لوگ تھوڑی دیر کے لیے بیدار ہوتے ہیں اورپھر دوبارہ سو جاتے ہیں۔لیکن اگر کوئی شخص بیدار ہوتے ہی اللہ کو یاد رکھے ، وہ شیطان کی لگی ہوئی ایک گرہ کو کھول دے گا، اور پھر وہ ترغیب پاکر اُٹھ جائے گا۔جب وہ وضو کرتاہے، اس کا ارادہ پکا ہوجاتاہے، جس کے باعث شیطان اس سے مزید دور ہٹ جاتاہے، اور جب وہ نماز ادا کرتاہے تو شیطان مکمل طور پر شکست کھاجاتاہے، نیک نیتی مزید بڑھ جاتی ہے، اور وہ خوشی اور تروتازگی محسوس کرتاہے۔نمازِ فجر ادا کرنے کے لیے گھر سے یا کسی دوست سے مدد طلب کرنا۔اس معاملے میں ایک دوسرے کو تلقین کرنا ضروری ہے، اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں کوئی شک نہیں ہے کہ:’’جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ہیں ان میں سب سے تعاون کرو‘‘ (المائدہ:2)اور’’ زمانے کی قسم ! انسان درحقیقت خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے ! جو ایمان لائے، اور نیک اعمال کرتے رہے ، اور ایک دوسرے کو حق اور صبر کی تلقین کرتے رہے۔ ‘‘(العصر:1-3)شوہر کو چاہیے کہ اپنی بیوی کو تلقین کرے، مثلاً اسے فجر کی نماز ادا کرنے کے لیے اٹھائے،

اور اسی طرح بیوی اپنے شوہر کو تلقین کرے، یہ سوچے بغیر کہ کتنے تھکے ہوئے ہوں گے۔بچوں کو بیدار ہونے کے لیے اپنے والدین سے بھی مدد لینی چاہیے، تاکہ وہ انہیں نماز کے وقت میں اٹھائیں ۔والدین یہ نہ کہیں کہ’’ان کے امتحانات ہیں، یہ تھکے ہوئے ہیں، انہیں سونے دویا بے چارے بچے‘‘ اگر والدین ایسے افعال کریں تو انکو مہربان اور رحم دل سمجھنا انتہائی غلط ہوگا۔ والدین کی اولاد پر حقیقی شفقت کا مطلب یہ ہے کہ وہ انہیں اللہ کی عبادت کے لیے بیدار کریں۔’’اپنے اہل و عیال کو نماز کی تلقین کریں اور خود بھی اس کے پابند رہیں ۔‘‘ (طہ:132)اسی طرح گھرانےکے تمام افراد کو چاہیے کہ نمازِ فجر ادا کرنے میں ایک دوسرے کی مدد کریں اور تاکید کریں۔ اور مسلمان بھائی بھی اسی طرح ایک دوسرے کی مدد کرسکتے ہیں ۔مثلاً، یونیورسٹی کے طالبِ علم جوکہ ایک ہی گھر میں یا پڑوس میں رہتے ہیں۔ایک دوسرے کی مدد اس طرح کرسکتے ہیں کہ پڑوسی کے دروازے پر دستک دیں اسے نماز کی غرض سے بیدار کریں

؎اور اللہ کی عبادت کرنے میں مدد فراہم کریں۔نمازِ فجر اداکرنے کے لیے اللہ سے دعا کریں تاکہ صبح بیدار ہوکر نماز ِفجر باجماعت ادا کریں۔دعا تمام معاملات میں قوت اور کامیابی کا ایک عظیم ذریعہ ہے۔{جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ دُعا عبادت کا مغز ہے}بیداری کے لیے مختلف ذرائع استعمال کریں :جیسا کہ آلارم والی گھڑی ۔ انہیں سب سے زیادہ مناسب جگہ پر رکھا جائے۔بعض لوگ آلارم کلاک سر کے ساتھ رکھتے ہیں، جب آلارم بجتا ہے، تو وہ اسے فوراً بند کرکے دوبارہ سو جاتے ہیں۔ ایسے شخص کو گھڑی تھوڑی دور رکھنی چاہیے، تاکہ وہ محسوس کر سکےکہ واقعی گھڑی اسے بیدار کر رہی ہے۔ کوئی شخص ٹیلی فونک کمپنی کی طرف سے آلارم کالزکی سہولت سے بھی فائدہ اٹھا سکتاہے۔اور کسی مسلمان کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ اس سہولت کے بدلے کوئی خطیر رقم ٹیلی فونک کمپنی کو ادا کررہا ہے جبکہ اسےاس سروس کی اشد ضرورت بھی ہو۔کیونکہ یہ مال اس نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا ہے ،اور نماز کیلئے بیدار ہونا تو گویا اللہ کا حکم ماننا ہے تو پھر کسطرح دنیاوی دولت کو نماز کے بدلے ناپا جاسکتاہے؟اس شخص کے منہ پر پانی پھینکنا جو سو رہا ہے : حضور اکرمﷺ نے اس شخص کو پسند کیا

جو رات میں نماز کی خاطر بیدار ہوتا ہے، اور اپنی بیوی کو اٹھاتاہے، اور جب وہ بیدار ہونے سے انکار کرتی ہے تو وہ اس کے چہرے پر پانی پھینکتا ہے؛اور نبیﷺ نے پسند کیا اس عورت کو جو رات میں نماز کی خاطر بیدار ہوتی ہے ، اور اپنے شوہرکو جگاتی ہے اور جب وہ بیدار ہونے سے انکار کرتاہے تو اسکے چہرے پر پانی پھینکتی ہے۔(امام احمد، المسند،2/250؛ صحیح الجامی،3494)۔​کسی شخص کے چہرے پر پانی پھینکنے کا مقصد اسے نماز کے لیے بیدار کرنا ہے جوکہ شریعت سے ثابت ہے۔دراصل یہ تازگی اور توانائی بخش ہے۔کچھ لوگ غصے میں آجاتے ہیں جب انہیں اس طریقہ سے اٹھایا جائے ، وہ چلّاتے ، غصہ کرتے اور دھمکیاں دیتےہیں۔تو جو شخص کسی کو بیدار کرنا چاہتا ہے وہ حکمت اور صبر سے کام لے۔ اور یاد رکھیں کہ اعمال سے قلم اٹھا لیے جاتے ہیں جب کوئی سورہا ہوتا ہے(یعنی اس کے اعمال ریکارڈ نہیں کیے جاتے جبکہ وہ سورہا ہوتاہے)}الاّ یہ کہ سونے والا شریعت کی رو سے کوئی ایسا عمل کردے جو اسے سونے کے باوجود عابدوں میں شمار کردے اور وہ ایسا ہو کہ باوجود سونے کے گویا پوری رات عبادت میں مشغول رہا ہو{تو اسے چاہیے کہ کسی بھی بُرے برتاؤ کو برداشت کرے ،

اور لوگوں کو نماز کے لیے بیدار کرنے کی کوشش نہ چھوڑے۔ کیونکہ اس سے وہ رات میں دیر سے سوئے گا، اور جوکوئی دیر سے سوتا ہے اسے بیدارہونے میں مشکل ہوگی۔آخر میں، اللہ سے مخلص وابستگی ایک بہترین عمل ہے جوکہ کسی شخص کی بیداری میں حوصلہ افزا ہوگی۔کیونکہ اللہ واحد ہے جوکہ تمام مدد کے اسباب کی قدرت رکھتا ہے ۔اگر کوئی شخص سچا خلوص رکھتا ہےاور اس کا دل اللہ سے وابستہ ہوتو اللہ بیدار ہونے میں اسکی مدد کرے گا تاکہ وہ نماز ِفجر جماعت کے ساتھ ادا کرلے،چاہے وہ فجر سے چند لمحات قبل سوبھی جائے۔یہ حقیقی محبت اور بندگی پرعزم لوگوں کو اس بات پر ابھار سکتی ہیں کہ وہ خود ہی ایسی غیر معمولی راہیں تلاش کریں جس سے وہ نماز کے لیے بیدار ہوں جوکہ ان کے اشتیاق اور جوشیلے پن کی علامت ہے۔کوئی شخص بیدار ہونے کے لیے کئی آلارم سیٹ کرسکتاہے۔آلارم اس طرح سے سیٹ کرے کہ ہر آلارم تھوڑے وقفے بعد بجے تاکہ اگر وہ پہلا آلارم بند کربھی دیتاہے،تو اگلا آلارم اسے تھوڑے وقفے بعد بیدار کردے گا۔اسی طرح سے کوئی اپنی کلائی پر ڈوری باندھ لے، اور ڈوری کا دوسرا سرا کھڑکی سے لٹکادے۔اس لیے کہ اس کا دوست مسجد جانے کے لیے یہاں سےگزرتا ہے ،

تو وہ رسی کھینچ کر اسے نمازِ فجر کے لیے بیدار کرسکتا ہے۔ذرا سوچیے کہ کیا کچھ خلوص اور پکے ارادے کے ساتھ حاصل کیا جاسکتاہے،اللہ ہمیں ہدایت دے!لیکن کڑوا سچ یہ ہے کہ آج کل لوگوں میں ایمان کی کمزوری ا اخلاص کی کمی بڑے عروج پر ہے،جیسا کہ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ مساجد میں نمازِ فجر ادا کرنے کے لیے قلیل تعداد نظر آتی ہے ۔اس کے باوجود کہ بہت سے لوگ مساجد کے اطراف بہت سے ہمسایوں کے ساتھ رہتے ہیں۔لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت سے لوگ زیادہ سوتے ہیں جوکہ تقریباً ایک بیماری کی طرح ہے،اور یہ معذرت پیش کرسکتے ہیں، کیونکہ یہ معاملہ ان کے کنٹرول سے باہر ہے۔لوگوں کو اس صورتحال میں اللہ سے مدد طلب کرنی چاہیے۔اور ہر وہ عمل کرنا چاہیے جو کہ ممکن ہو، اور ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں اور علاج کی تلاش کی کوشش کریں۔آخر میں ایک امر کے متعلق کچھ الفاظ:کچھ لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ

ایک حدیث ہے کہ اگر کوئی شخص فجر میں بیدار ہونا چاہتاہے تو اسے چاہیے کہ وہ سونے سے پہلے سورۃ الکہف کا آخری حصہ تلاوت فرمائے،اور اپنے دل میں کسی مخصوص وقت میں اُٹھنےکی پکّی نیت کرلے، اس وجہ سے وہ اس وقت اُٹھ جائے گا۔وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ آزمایا ہوا اور مجرّب(تجربہ سے ثابت شدہ) عمل ہے۔ہمارا جواب یہ ہے کہ اس طرح کی کوئی صحیح حدیث نہیں ہے،اور یہ کوئی وزن نہیں رکھتی ہے،بہترین رہبری نبیﷺ کی ہدایات ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں