”کیا آپ جانتے ہیں کہ حجرہ رسو لﷺ میں کس عورت کا جہیز امانت کے طور پر پڑا ہے ؟“

امانت

، کیا آپ جانتے ہیں کہ حجرہ رسو لﷺ شاہ فیصل بن عبدالعزیز کے دور میں سعودی حکومت کے ایک سابق اعلیٰ عہدے دار نے ایک واقعہ بتایا کہ جب شاہ فیصل ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے میں گئے تھے تو انہوں نے وہاں کیا دیکھا۔ حجرہ نبوی کی زیارت کرنے کو جب شاہ فیصل وہاں

گئے تو انھوں نے دیکھا کہ ہاں لوہے کے چند صندوق ہیں۔ جب ان کے بارے میں دریافت کیا گیا تو کچھ بھی معلوم نہ ہو سکا کہ آخر یہ صندوق کس کے ہیں۔ شاہ فیصل نے ایک کمیٹی تشکیل دی جس کے ذمہ یہ کام لگایا کہ وہ حجرہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود اشیاء اور سامان کی فہرست تیار کریں۔ چونکہ نماز عشاء کے بعد مسجد نبوی کے دروازے بند کیے جاتے ہیں لہذا یہ فیصلہ ہوا کہ یہ کمیٹی نماز عشاء کے بعد بعد حجرہ نبوی میں داخل ہوگی۔ جب اس کمیٹی نے حجرے میں داخل ہو کر وہاں صندوقوں کو کھولا اور چیزوں کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ ان صندوقوں میں سونے کی اینٹیں اور زیورات موجود تھے۔ اس

کے علاوہ ان میں وہ زنجیریں موجود تھیں جو خانہ کعبہ اور حرم پر لٹکانے کے کام آتی ہیں۔ 15 دن تک حجرے کے معائنے کا کام ہوتا رہا۔ اس کمیٹی کو حجرے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب چند خطوط بھی ملے۔ جو زیورات وہاں سے ملے تھے وہ دراصل سلطنت عثمانیہ کے سلطان عبدالمجید نے اپنے مدینہ دورہ کے وقت وہاں رکھوائے تھے۔ یہ زیورات سلطان کی بیٹی کے تھے جو اسنے مدینے کی عورتوں کے لئے وقف کئے تھے اور حجرے نبوی میں رکھوانے کا مقصد یہ تھا کہ وہ زیورات محفوظ رہ سکیں۔ کمیٹی کو حجرہ نبوی سے جو سامان اور زیورات وغیرہ ملے وہ مدینے کے میوزیم میں

رکھوا دیے گئے اور کچھ زیورات سعودی مالیاتی کمیٹی کے حوالے کر دیے گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا اپنا تبصرہ لکھیں “تبصرہ بھیجیں”

اپنی رائے کا اظہار کریں