احتلام کا وہم ہو تو کیا کریں ؟

احتلام

احتلام کا وہم ہو تو کیا حکم ہے ؟اگر ہمیں نیند سے اٹھنے کے بعد وہم ہو کہ احتلام ہوا ہے یا نہیں اور اس وجہ سے نماز میں بھی شک ہوجائے تو ہم کیا کریں؟یعنی ہم کب یقین کریں کہ احتلام ہوا ہے کہ نہیں ہوا؟احتلام مرد کو بھی ہوتا ہے خواتین کو بھی لیکن خواتین کو بہت کم ہوتا ہے اور جن کو ہوتا ہے تو ان

کو بھی وہم زیادہ ہورہا ہوتا ہے تو یہ ایسی چیز نہیں ہے کہ پتہ ہی نہ چلے انسان کو توجب وہ ہوتا ہے تو صاف طور پر صبح پتہ چلتا ہے کہ کپڑوں پر ناپاکی لگی ہوئی ہے۔واضح طور پر پتہ چل رہا ہوتا ہے تو اس لئے اس میں یہ کہنا کہ وہم ہے کہ پتہ نہیں ہوا ہے کہ نہیں ہوا تو یہ وہم کی بیماری معلوم ہوتی ہے تو اس صورت میں آپ بلا تکلف بلا شک و شبہ نماز پڑھیں آپ کی نماز انشاء اللہ صحیح ہوجائے گی اور یہ وہم کرنا آپ کے لئے جائز نہیں ہے۔احتلام یاد نہ ہونے

کی صورت میں کن صورتوں میں غسل واجب ہوگا اور کن صورتوں میں نہیں؟ اگر صبح سوکر اٹھنے کے بعدآپ کو احتلام یاد نہ ہو ؛ البتہ جسم یا کپڑے میں کوئی تراوٹ یا دھبہ ہو اوریقین یا غالب گمان یہ ہو کہ وہ منی ہے تو ایسی صورت میں آپ پر غسل فرض ہوگا، اسی طرح اگر تراوٹ یا دھبہ کے بارے میں منی اور مذی کایا منی اور ودی کا یا منی، مذی اور ودی کا شک ہوتو ان تینوں صورتوں میں بھی احتیاطاً غسل واجب ہوگا۔اور اگر احتلام یاد نہ ہونے کی صورت

میں مذی کا یقین ہو یا مذی اور ودی کا شک ہو یا ودی کا یقین ہو تو ان تین صورتوں میں غسل واجب نہ ہوگا۔ اور اگر احتلام یاد ہو اور تراوٹ یا دھبہ کے بارے میں ودی کا یقین ہو تو بھی غسل واجب نہ ہوگا ۔ناپاک کپڑا جب ایک بار سرف وغیرہ سے دھویا جائے تو اس کو تین بار پاک صاف پانی میں ڈالا جائے اور ہربار نچوڑلیا جائے،بالٹی سے ایک ایک کپڑا نکال کر نچوڑسکتے ہیں، ناپاک کپڑے کو پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ تین مرتبہ پانی ڈال کر دھویا جائے اور

ہرمرتبہ نچوڑا جائے کہ قطرہ ٹپکنا بند ہوجائے تو کپڑا پاک ہوجائے گا۔اگر نیند کی حا لت میں لذت اور انتشار کے بغیر عضوِ تناسل سے مادہ نکلے ،اور پھر اس مادہ کی وجہ سے جسم میں اُس جگہ(جہاں پر مادہ لگ گیا ہو) ٹھنڈک کا احساس ہونے کی وجہ سے آنکھ کھلے اور کوئی برا خواب بھی نہ آیا ہو۔ پوچھنا یہ تھا کہ اگر ایسا ہو تو کیا غسل فرض ہو جاتا ہے ؟ کیا یہ احتلام کی ہی کوئی شکل ہے یا یہ احتلام نہیں ہے ؟یہ مادہ ناپاکی کی کونسی شکل(منی، مذی، ودی) ہے

؟ کیا ایسے کپڑے اگر ناپاکی میں شمار ہوتے ہیں تو کیا صرف پانی کے چھینٹوں سے پاک ہو جائیں گے ؟صورت مسئولہ میں غسل واجب ہے۔ یہ امام ابوحنیفہ اور امام محمد رحمہما اللہ کا قول ہے اور اسی میں احتیاط ہے اور عضو سے نکلنے والا مذکورہ مادہ چاہے منی ہو یا مذی، بہرصورت وہ ناپاکی ہے، کپڑے میں جہاں لگ جائے اسے دھونا لازم ہے، تر ہونے کی صورت میں چھینٹے کافی نہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں