اذان شروع ہوگئی ہے، رک کر ذرا ٹھہر جاوں یا کام جاری رکھوں۔

اذان

سوال ہے کہ اگر میاں بیوی قربت کر رہے ہوں اور اذان ہو نے لگے تو اذان کے احترام کے لیے یہ عمل چھوڑ دینا چاہیے یا نہیں؟؟؟ آج آپ کو ایک سوال کا جواب دوں گا کیونکہ یہ بہت ہی اہم سوال ہے اس لیے سوچا کہ آپ کے ساتھ یہ معلو مات شئیر کر وںکیونکہ یہ انتہائی ہی اہم سوال ہے اور اس دور سے ہم سب

کو گزرنا ہوتا ہے اس لیے اس مسئلے کا علم ہو نا بہت ضروری ہے تو میری ;باتوں کو غور سے سنئیے گا کیونکہ یہ دینی مسئلہ ہے۔ سوال ہے۔ کہ اگر میاں بیوی قربت کر رہے ہوں اور اذان ہونے لگے تو اذان کے احترام کے لیے یہ عمل چھوڑ دینا چاہیے یا نہیں اور اگر نہیں چھوڑنا چاہیے تو کیا اذان کا جواب دینا ضروری ہے۔ نیز اگر حالتِ قربت ہو۔ اور اس دوران جماعت کھڑی ہو جا ئے تو کیا اس عمل کو روک دینا چاہیے ؟ ایک حدیث میں ہےکہ اگر کھا نا سامنا رکھا

ہو تو پہلے کھا نا کھا ئیں پھر نماز کے لیے جا ئیں اس سوال کا جواب یہ ہے کہ چونکہ اذان کا مقصد لوگوں کو نماز کی طرف بلا نا ہو تا ہے جب مسجد میں اذان ہونے لگے تو سارے کام کاج چھوڑ کر نماز کے لیے تیار ہو نا چاہیے اور اول وقت میں نماز ادا کرنی چاہیے کیونکہ نبی کریم ﷺ کا فر ما ن ہے ترجمہ اس کا یہ ہے کہ بہترین عمل نماز کو اس کے اول وقت میں ادا کر نا ہے۔ اور جب قربت کی حالت میں ;اذان ہونے لگے یا اقامت کی آواز سنائی دے تو اس عمل

کو جاری رکھنے میں کوئی حرج نہیں تاہم اس سے جلد از جلد فارغ ہوکر غسل کر کے نماز ادا کر لیں یاد رہے اذان سننے کے بعد بستر پر لیٹے رہنا حتیٰ کہ اقامت ہونے لگے تب قربت کرنا یہ سرا سر غلط ہے غفلت ہے جہاں تک اذان کے جواب کا مسئلہ ہے تو یہ سب پر واجب نہیں ہے بلکہ فرض ِ کفایہ ہے اور بڑے اجر و ثواب کا حامل ہے اس لیے قربت کے دوران جواب دینا چاہیں تو دینے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن قربت کے وقت اذان کا جواب دینے سے علماء

نے منع فر ما یا ہے جب اس عمل سے فارغ ہو جا ئیں تو بقا یا کلمات کا جواب دے سکتے ہیں جیسا کہ ہم سب ہی اس بات سے بہت ہی اچھے سے واقف ہیں کہ ہمارے جو دین ہے۔ وہ ہماری ہر معاملے میں رہنمائی فر ما تا ہے وہ کہتا ہے کہ ہمیں زندگی کے کسی بھی مسئلے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہماری زندگی کا ہر مسئلہ کا حل جو ہے وہ قرآنِ پاک میں مو جود ہے تو ہمیں چاہیے کہ ہم جو بھی معاملہ کر یں وہ قرآن و حدیث کے مطا بق کر یں تا

کہ ہماری زندگیاں جو ہیں وہ آسان ہو سکیں۔ اور ہم ایک چین و پر سکون والی زندگی بسر کر سکیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں