اگر کسی کو پتھری کا مرض ہو تو یہ پڑھ کر دم کر ے۔ جسم سے ساری پتھری ریزہ ریزہ ہو کر باہر نکل جا ئے گی

پتھری

آج میں آپ تما م کو پتھری کے مرض کے حوالے سے زبردست مجرب عمل بتانے والا ہوں اس کو ذرا غور سے دیکھئے گا بھی اور اس عمل کو سمجھئے گا بھی کیونکہ یہ جو عمل لکھنے والا بتا تا ہوں یہ آپ کی آسانی کے لیے ہے تا کہ کسی قسم کی الجھن نہ ہو اور ساتھ میں جو میں بول رہا ہوں اس کو بھی غور

سے سنیے گا اگر کسی کو پتھری کا مرض ہو تو یہ پڑھ کر دم کر ے۔ ترجمہ: ہمارا رب وہ ہے جو کہ آسمان میں (معبود ) ہے تیرا نام پاک ہے تیرا حکم آسمان زمین میں جاری ہے جیسا کہ تیری رحمت آسمان میں ہے سو تو زمین میں بھی اپنی رحمت بھیج اور ہمارے گ ن ا ہ اور ہماری خطائیں بخش دے تو پا کیزہ لوگوں کا رب ہے سو تو اپنی شفاؤں میں سے ایک شفا اور اپنی رحمتوںمیں سے ایک رحمت اس درد پر اتار دے جس سے وہ اچھا ہو جا ئے۔ اس دعا کو صبح و

شام تین مر تبہ پڑھ کر-مریض پر دم کر یں انشاء اللہ تعالیٰ شفاء ہو گی۔ وان من الحجارۃ لما یقفجر منہ الا نھار وان منھا لما یشقق فیخرج منہ المائ وان منھا لما یھبط من خشیتہ اللہ۔ ترجمہ : اور پتھر تو بعضے ایسے ہو تے ہیں کہ ان میں سے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں اور بعضے ایسے ہو تے ہیں کہ پھٹ جا تے ہیں اور ان میں سے پانی نکلنے لگتا ہے اور بعضے ایسے ہو تے ہیں کہ خدا کے خوف سے گر پڑتے ہیں۔ اس آیت کو چالیس دن تک اکتالیس مر تبہ پڑھ کر پانی پر دم

کر کے مریض کو پلا ئیں انشاء اللہ شفاء ہو گی۔ بواسیر کے مریض آپ کو در بدر گھومتے نظر آئیں گے اور بہت ہی کم لوگ ایسے ہوں گے جو اس موذی مرض سے نجات حاصل کر سکے ہوں مگر میں آپ کو ایک گوہر نایاب نسخہ دے رہاہوں جس کی تصدیق نبی پاک ؐ کی اس حدیث پاک سے ہوتی ہے. ” نبی پاک ؐ کے پاس انجیروں- کا ایک تھال بطور تحفہ آیا آپ ؐ نے اپنے اصحاب ؓسے فرمایا” اگر میں کہتا کہ جنت سے ایک کھانا آیا ہے تو میں کہتا یہ انجیر ہے یہ

بواسیر کو دور کرتی ہے اور درد نقرس کے لیے مفید ہے ”. نقرس چھوٹے جوڑوں کے درد جسے عام زبان میں گھنٹیا کہتے ہیں کی بھی اکسیر دوا ہے اور خاص طور پر یورک ایسڈ کو بھی کم کرتی ہے.نقرس کے لیے ایک سے تین انجیر ہر کھانے سے پہلے یا بعد میں کھا لیں چھوٹے جوڑوں کے درد کے علاوہ یورک ایسڈ کو بھی ختم کرتی ہے. کافی عرصہ پہلے میرے پاس ایک فوجی بھائی آئے جو کہ عرصہ تین چار سال سے بواسیر کے مرض میں مبتلا تھے

بواسیر کے خلاف ہمیں لڑنا ہو گا تب ہی ہم اس خطرناک مرض سے لڑ سکتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں