خدا کا واسطہ شوہر یہ ضرور پڑھیں جولوگ بیوی کا مذاق اُڑاتے ہیں انکے ساتھ کیا ہوتاہے

بیوی

ایک مؤمن جس طرح طرح مسلمان کی جان اور اس کے مال کو نقصان پہنچانا حرام ہے اسی طرح اسکی عزت اور آبرو پر حملہ کرنا بھی قطعاً ناجائز ہے عزت وآبرو کو نقصان پہنچانے کے کئی طریقے ہیں ان میں سے ایک اہم طریقہ کسی کا مذاق اُڑانا ہے مذاق اُڑانے کا عمل اپنے بھائی کی عزت وآبرو پر براہ

راست حملہ اور اسے نفسیاتی طور پر مضطرب کرنے کا ایک اقدام ہے ۔ آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ بیوی کا مذاق اُڑانے کے حوالے سے حضرت علی ؓ کے حوالے سے کیا فرمان ہے ۔ کسی کا مذاق اُڑانا اسلام میں جائز ہے یا ناجائز ۔کسی کا مذاق تب اُڑایا جاتا ہے جب کسی کو حقیر سمجھا جاتا ہے ۔ اس کی رویہ کے دنیا وآخرت دونوں میں بہت منفی نتائج نکل سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ باہمی قدورتیں لڑائی جھگڑا انتقامی سوچ بدگمانی حسد اور سازشیں دنیا کی زندگی

کو جہنم بنادیتی ہیں دوسری طرف اس رویے کا حامل شخص خدا کی رحمت سے محروم ہوکر ظالموں کی فہرست میں چلا جاتا ہے اپنی نیکیاں گنوا بیٹھتا ہے آخرت میں خود ہی تضحیک کا شکار ہوجاتا ہے ۔ مذاق اُڑانے کی قرآن وحدیث میں بھی ممانعت آئی ہے ۔ یہ عمل اس قدر ناپسندیہ ہے کہ اللہ نے اسکو براہ راست موضوع بنایا چنانچہ سورۃ الحجرات میں واضح طور پر بیان ہوتا ہے اے ایمان والونہ مردوں کی کوئی جماعت دوسرے مردوں کو مذاق اُڑائے ممکن ہے

وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اُڑائیں عجب ان سے بہتر نکلیں۔مذاق اُڑانا ایک شخص کی تحقیر کرنا اور اسے بے عزت کرنا ہے ۔تمسخر کرنے یا مذاق اُڑانے کے بارے میں امام غزالی ؒ فرماتے ہیں اہانت اور تحقیر ارادے سے کسی کے حقیقی یا مفروضہ عیب اس طرح بیان کرنا کہ سننے والے کو ہنسی آئے اسی لیے روایات میں کسی کی آبرو کو نقصان پہنچانے کی مذمت کی گئی ہے ۔ حضرت علی ؓ کا بیان ہے آپﷺ نے فرمایا جو کوئی کسی

مسلمان کی آبرو ریزی کرے گا اس پر اللہ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوتی ہے ۔اس کی نفل اور فرض عبادت قبول نہیں ہوگی ۔ بروایت صحیح بخاری مذاق اُڑانے کا عمومی مقصدکسی مخصوص شخص کی تحقیر کرنا اور اسے کمتر مشہور کرنا ہوتا ہے اس کے پیچھے تکبر کا رویہ کارفرما ہے ۔اسی بارے میں حضرت علی ؓ کے ہکایت یو ں روایت کی گئی ہے ایک عورت نے آپ ؓ سے شکایت کی کہ اسکا شوہر اسکا لوگوں کے سامنے مذاق اُڑاتا ہے ۔ حضرت علی ؓ

نے اس شخص کو فرمایا کہ یاد رکھو کہ اپنی بیوی کا یوں مذاق اُڑانا درست نہیں جب تم اپنی بیوی کا مذاق اُڑاؤ گے تو اللہ کی رحمت سے محروم ہو گے ۔ تمہیں چاہیے کہ اپنی بیوی کیساتھ حسن سلوک کروکہ تمہارے گھر میں مال ودولت اور تمہارا رزق تمہاری بیوی کیوجہ سے ہے اگر تم اسکے ساتھ ایسا کروگے تو تمہارے گھر میں تنگی اور پریشانی آئیگی

اپنی رائے کا اظہار کریں