عرش کے خزانوں کی تسبیح

عرش

آدھے منٹ کی دعاکرتے ہیں اب آدھے منٹ کی دعا میں ہم نے اللہ سے کیا مانگا ہمارے اکابر مستقل عمل سمجھتے تھے۔ اس دعا مانگنے کو نبی ﷺ نے فرمایا الدعاء مخ العبادہ کہ دعا تو عبادت کا مغز ہے رات کو تہجد پڑھتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے مانگتے تھے وہ جانتےتھے۔کہ رات کو اللہ رب العزت کی طرف سے

ایک خصوصی دینے کا دروازہ کھول دیاجاتا ہے چنانچہ حدیث پاک میں آتا ہے ایک فرشتہ تہجد کے وقت اعلان کرتا ہےھل من سائل فاعطی لہ ہے کوئی سوال کرنے والا کہ جس کو عطا کردیا جائے ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں راہ دکھلائیں۔ کسی راہرو منزل ہی نہیں تو اللہ تعالیٰ تو دینا چاہتے ہیں مگر وہ دینے والے اعلان کروار ہے ہیں اور لینے والے لمبی تان کر سو رہے ہیں اور جب صبح اٹھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ پریشانی ختم نہیں ہوتی یہ ختم نہیں ہوتی

تو بھئی اس وقت کہاں تھے جب ادھر سے آوازیں دلوائی جارہی تھیں۔کہ مانگنے والے تم اپنی درخواستیں پیش کرو عطا کرنے والا تمہاری امیدوں سے بڑھ کر تمہیں عطا کردے گا تو سچی بات تو یہ کہ ہم جو یہ کہتے ہیں۔ کہ یہ نہ ملا وہ نہ ملا یہ ہم خواہ مخواہ کی شکایت کرتے ہیں ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا مانگتے رہیں مانگتے رہیں پھر دیکھیں اللہ کیسے در کھولتے ہیں کیسے اللہ تعالیٰ مشکلات کو آسان فرمادیتے ہیں اس کی رحمت کی ایک نظر ہماری

مشکلات کی سب کی سب مشکلات ختم ہونے کا ذریعہ بن جائے یہ خزاں کی فصل کیا ہے فقط ان کی چشم پوشی وہ اگر نگاہ کردے تو ابھی بہار آئے اللہ تعالیٰ کی رحمت کی نظر ہوجاتی ہے۔مانگنا نہ چھوڑے بندہ دن میں بھی مانگے رات میں بھی مانگے خوب مانگےہم تھڑ دلے ہیں ایک منٹ دو منٹ دعا مانگ کر تھک جاتے ہیں اور دعا مانگنے کا انداز بھی آج کل ہمارا عجیب ہوتا ہے ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : آدم کے بیٹے!جب تک تو مجھ سے دعاکرتا رہے گا اور مجھ

سے امید رکھے گا ، میں تمہیں معاف کرتا رہوں گا چاہے تم سے کچھ بھی سر زد ہوتا رہے۔ ابن آدم ! مجھے اس امر کی کوئی پروانہیں کہ اگر تمہارے گناہ آسمان کی بلندیوں تک بھی پہنچ جائیں ، پھرتم مجھ سے بخشش طلب کرو تو میں تمہیں بخش دوں گااور مجھے اس کی کوئی پروا نہیں۔ابن آدم !اگر تو گناہوں سے پوری زمین بھر کر لے آئے لیکن تمہارے دامن پر میرے ساتھ شرک کا داغ نہ ہو تو میں اتنی ہی مغفرت لے کر آؤں گا اور تمہیں معاف کردوں گا۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں